السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: فرض الطمأنينة في الركوع والقيام منه والسجود والجلوس منه والسجود الثاني باب: رکوع، اس سے کھڑے ہونے، سجدہ، اس سے بیٹھنے اور دوسرے سجدے میں اطمینان فرض ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ثَلَاثًا قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهُ فَعَلِّمْنِي قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، اس نے نماز پڑھی، پھر آکر آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جا پھر نماز پڑھ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ تین بار اس طرح ہوا تو وہ کہنے لگا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا، پس مجھے سکھلائیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ، پھر جو کچھ تجھے قرآن یاد ہو اور آسانی کے ساتھ پڑھ سکے وہ پڑھ، پھر اطمینان سے ٹھہر کر رکوع کر، پھر سر اٹھا یہاں تک کہ بالکل سیدھا کھڑا ہوجا، پھر اطمینان سے سجدہ کر، پھر سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھ جا، پھر دوسرا سجدہ اطمینان سے ٹھہر کر ادا کر، اسی طرح ساری نماز پڑھ۔“