السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإقعاء المكروه في الصلاة باب: نماز میں اس اقعاء کا بیان جو مکروہ ہے
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ حَكَى، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ قَالَ: " الْإِقْعَاءُ وَهُوَ أَنْ يَلْصَقَ إِلْيَتَيْهِ بِالْأَرْضِ وَيَنْتَصِبَ عَلَى سَاقَيْهِ وَيَضَعَ يَدَيْهِ بِالْأَرْضِ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْإِقْعَاءُ جُلُوسُ الْإِنْسَانِ عَلَى إِلْيَتَيْهِ نَاصِبًا فَخِذَيْهِ مِثْلَ إِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالسَّبُعِ " قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا النَّوْعُ مِنَ الْإِقْعَاءِ غَيْرُ مَا رُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى " ⦗١٧٤⦘ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَارِدًا فِي الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ، فَلَا يَكُونَ مُنَافِيًا لِمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَفِي الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.(ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ «اِقْعَاء» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہوں۔
(ج) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اِقْعَاء» کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں نقل کرچکے ہیں، بلکہ یہاں پر جو «اِقْعَاء» ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایات میں ہے، وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ”شیطان کی چوکڑی“ سے منع کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے، تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ آخری تشہد میں ہوں، تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم۔