السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاختيار في استيعاب الرأس بالمسح باب: مسح میں پورے سر کا احاطہ کرنے کے مختار و پسندیدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 273
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ " تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وضو کر کے دکھلایا، جس طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، جب آپ اپنے سر تک پہنچے تو پانی کا ایک چلو لیا اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر اس کو اپنے سر کے درمیان رکھ دیا، یہاں تک کہ پانی بہہ گیا یا قریب تھا کہ بہہ پڑتا، پھر اپنے سر کے اگلے حصے سے پچھلے اور پچھلے حصے سے اگلے حصے تک مسح کیا۔