السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاختيار في استيعاب الرأس بالمسح باب: مسح میں پورے سر کا احاطہ کرنے کے مختار و پسندیدہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 271
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وُضُوئِهِ قَالَ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ مَرَّةً، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا كَانَ طُهُورَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کی حدیث ذکر کی اور اپنے ہاتھوں سے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک مرتبہ مسح کیا، پھر فرمایا: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کی طرف دیکھے تو یہ آپ ﷺ کا وضو ہے۔