السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب منع التطهير بالنبيذ باب: نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، أنا أَبُو غَسَّانَ، أنا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ، أنا أَبُو فَزَارَةَ الْعَبْسِيُّ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ، لِيَقُمْ مَعِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، وَلَا يَقُمْ مَعِي رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ " ". قَالَ: فَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءِ كَذَا، قَالَ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا خَطَّ حَوْلِي خِطَّةً، ثُمَّ قَالَ: " " لَا تَخْرُجَنَّ مِنْهَا فَإِنْكَ إِنْ خَرَجْتَ مِنْهَا لَمْ تَرَنِي وَلَمْ أَرَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ". قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي. قَالَ: فَثَبَتُّ قَائِمًا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ أَقْبَلَ. قَالَ: " " مَا لِي أَرَاكَ قَائِمًا؟ " ". قَالَ: قُلْتُ: مَا قَعَدْتُ خَشْيَةَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْهَا. قَالَ: " " أَمَا إِنَّكَ لَوْ خَرَجْتَ مِنْهَا لَمْ تَرَنِي وَلَمْ أَرَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، هَلْ مَعَكَ مِنْ وَضُوءٍ؟ " ". قُلْتُ: لَا. قَالَ: " " فَمَاذَا فِي الْإِدَاوَةِ؟ " ". قُلْتُ: نَبِيذٌ. قَالَ: " " تَمْرَةٌ حُلْوَةٌ وَمَاءٌ طَيِّبٌ " ". ثُمَّ تَوَضَّأَ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ مِنَ الْجِنِّ فَسَأَلَاهُ الْمَتَاعَ فَقَالَ: " " أَوَلَمْ آمُرْ لَكُمَا وَلِقَوْمِكُمَا مَا يُصْلِحُكُمَا " ". قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّا أَحْبَبْنَا أَنْ يَحْضُرَ بَعْضُنَا مَعَكَ الصَّلَاةَ. قَالَ: " " مِمَّنْ أَنْتُمَا؟ " ". قَالَ: مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ. فَقَالَ: " " قَدْ أَفْلَحَ هَذَانِ، وَأَفْلَحَ قَوْمُهُمَا " ". وَأَمَرَ لَهُمَا بِالْعِظَامِ وَالرَّجِيعِ طَعَامًا وَعَلَفًا، وَنَهَانَا أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ. وَأنبأ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ، يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَبُو زَيْدٍ، الَّذِي رَوَى حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ " " رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ بِصُحْبَةِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَى عَلْقَمَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ، أَكَانَ عَبْدُ اللهِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: " " لَا " ". ⦗١٦⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، قَالَ: قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ: هَذَا الْحَدِيثُ مَدَارُهُ عَلَى أَبِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبُو فَزَارَةَ مَشْهُورٌ وَاسْمُهُ رَاشِدُ بْنُ كَيْسَانَ، وَأَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ مَجْهُولٌ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ خِلَافُ الْقُرْآنِ. قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ فُلَانِ بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِإِسْنَادٍ لَهُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعِجْلِيُّ بِإِسْنَادٍ لَهُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَا يَصِحُّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ فِي تَضْعِيفِ ⦗١٧⦘ هَذِهِ الْأَسَانِيدِ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ مُصَنَّفَاتِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَالرَّجُلُ الثَّقَفِيُّ الَّذِي رَوَاهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَجْهُولٌ قِيلَ اسْمُهُ عَمْرٌو، وَقِيلَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ وَالْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ضَعِيفَانِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعِجْلِيُّ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ عَلَى الثِّقَاتِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَنْكَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ شُهُودَهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فِي رِوَايَةِ عَلْقَمَةَ عَنْهُ، وَأَنْكَرَهُ ابْنُهُ، وَأَنْكَرَهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بھائی جنوں پر قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، تم میں سے ایک میرے ساتھ چلے اور ایسا نہ ہو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔“ میں آپ کے ساتھ چلا اور میرے پاس پانی کا برتن (لوٹا) تھا۔ جب ہم پہنچے تو آپ ﷺ نے میرے اردگرد ایک لکیر کھینچتے ہوئے کہا: ”اس دائرے سے باہر نہ نکلنا، اگر تو اس دائرے سے نکل گیا تو قیامت تک ہم ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر آپ چلے حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور میں فجر طلوع ہونے تک وہیں کھڑا رہا۔ پھر آپ ﷺ آئے اور فرمایا: ”میں تجھے کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں (یعنی تم بیٹھے کیوں نہیں)؟“ میں نے عرض کیا کہ میں ڈر گیا کہیں اس دائرے سے نہ نکل جاؤں، اس لیے نہیں بیٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو دائرے سے نکل جاتا تو ہم ایک دوسرے کو قیامت تک نہ دیکھ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”برتن (لوٹے) میں کیا ہے؟“ میں نے کہا: نبیذ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» ”میٹھی کھجور اور پاکیزہ پانی“، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھ لی تو جنوں میں سے دو شخص آئے اور کسی چیز کا سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں نے تم کو اور تمہاری قوم کو اس چیز کا حکم نہیں دیا جو تمہارے لیے بہتر ہے؟“ ایک نے کہا: کیوں نہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس قبیلے سے ہو؟“ انہوں نے کہا: نصیبین میں سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دونوں اور ان کی قوم کامیاب ہو گئی“، پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے ہڈیاں اور گوبر کا کھانا حلال قرار دیا اور ہمیں ہڈیاں اور گوبر سے استنجا کرنے سے منع کر دیا۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: حدیث ابن مسعود جس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» ”پاک کھجور اور پاکیزہ پانی“ اس میں ابو زید راوی مجہول ہے۔ اس کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ملاقات ثابت نہیں۔
علقمہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، میں اس واقعہ میں آپ ﷺ کے ساتھ نہیں تھا۔
عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ سے پوچھا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔
ابو احمد بن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کا مدار اس سند پر ہے: «عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ»۔ ابو فزارہ مشہور راوی ہے، اس کا نام راشد بن کیسان ہے، ابو زید مولی عمرو بن حریث مجہول راوی ہے۔ یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت نہیں کیونکہ یہ قرآن کے صریح خلاف ہے۔
شیخ احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث «حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ فُلَانِ بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ» اور «عَنِ ابْنِ لَهِيْعَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَجَّاجٍ عَنْ حَنَشٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ» یعنی یہ کئی طرق سے روایت کی گئی ہے، لیکن ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں۔