السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب منع التطهير بالنبيذ باب: نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 26
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَنْبَأَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ، نا أَبُو زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْحُرَيْثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْجِنِّ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ يَعْنِي مِنَ الْجِنِّ رَجُلَانِ. قَالَ الرَّمَادِيُّ: أَحْسَبُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: فَقَالَا: نَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَتِ ⦗١٥⦘ الصَّلَاةُ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَكَ وَضُوءٌ؟ ". قُلْتُ: لَا، مَعِي إِدَاوَةٌ فِيهَا نَبِيذٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ ". فَتَوَضَّأَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لیلۃ الجن میں دو جن پیچھے رہ گئے، رمادی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ان دونوں جنوں نے کہا: ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہونا چاہتے ہیں۔ جب نماز کا وقت ہوا تو نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تیرے پاس وضو کے لیے پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، میرے پاس لوٹے میں نبیذ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ» ”کھجور پاک ہے اور پانی بھی پاک ہے“، چنانچہ آپ ﷺ نے (اس نبیذ سے) وضو کیا۔