السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سجد عليهما في ثوبه باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے کپڑے کے اندر ان دونوں (ہتھیلیوں) پر سجدہ کیا
حدیث نمبر: 2674
قَدْ مَضَى حَدِيثُ حَسَنٍ الْبَصْرِيِّ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُونَ وَأَيْدِيهِمْ فِي ثِيَابِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس حالت میں سجدہ کرتے تھے کہ ان کے ہاتھ ان کے کپڑوں کے اندر ہوتے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ سَعْدًا، " صَلَّى بِالنَّاسِ فِي مُسْتُقَةٍ يَدَاهُ فِيهَا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالْمُسْتُقَةُ: الْفَرْوُ الطَّوِيلُ الْكُمَّيْنِ. وَهَذَا مُرْسَلٌ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " كَانُوا يُصَلُّونَ فِي مَسَاتِقِهِمْ وَبَرَانِسِهِمْ وَطَيَالِسِهِمْ مَا يُخْرِجُونَ أَيْدِيَهُمْ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ، فِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ الضَّعْفِ.حافظ ثناء اللہ
حکم سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کے ہاتھ آستینوں میں تھے۔
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «المُسْتَقَةُ» سے مراد لمبے آستینوں والا کپڑا ہے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے لمبے آستینوں والے کپڑوں، چادروں اور بڑی بڑی شالوں (سبز رنگ کی چادر جو عموماً مشائخ رکھتے ہیں) میں نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو باہر نہیں نکالتے تھے۔