السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الطمأنينة في الركوع باب: رکوع میں اطمینان (سکون) اختیار کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ ⦗١٢٧⦘ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَةُ بْنُ الْأَحْنَفِ الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَامَ يُصَلِّي فَجَعَلَ لَا يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذَا لَوْ مَاتَ مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ؟ يَنْقُرُ صَلَاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَلَا يَرْكَعُ، وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ كَالْجَائِعِ لَا يَأْكُلُ إِلَّا تَمْرَةً أَوْ تَمْرَتَيْنِ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، وَأَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَقُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، پھر ان میں سے ایک گروہ میں بیٹھ گئے۔ اس دوران ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا، لیکن وہ رکوع بھی صحیح نہیں کر رہا تھا اور سجدوں میں بھی ٹھونگیں لگا رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اگر یہ اسی حالت میں مر جائے تو ملتِ محمدیہ ﷺ کے علاوہ کسی اور ملت پر اس کی موت ہو گی۔ نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جس طرح کوا خون میں ٹھونگیں مارتا ہے۔ اس شخص کی مثال جو اس طرح نماز پڑھتا ہے کہ اس میں نہ تو رکوع صحیح کرتا ہے بلکہ اپنے سجدوں میں (کوے کی طرح) ٹھونگیں مارتا ہے، اس بھوکے کی طرح ہے جو صرف ایک یا دو کھجوریں کھا سکے، وہ اس کو کیا کفایت کریں گی۔ لہٰذا اچھی طرح وضو کیا کرو۔ (خشک) ایڑیوں والوں کے لیے آگ کی وعید ہے، بربادی ہے اور رکوع و سجود بھی مکمل کیا کرو۔“
ابو صالح کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: لشکروں کے سپہ سالاروں یعنی خالد بن ولید، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ اور یزید بن سفیان رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے اور ان سب نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔