السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السنة في وضع الراحتين على الركبتين ونسخ التطبيق باب: ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی سنت اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سَعْدٍ فَطَبَّقْتُ بِيَدِيَّ فَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ فَضَرَبَ بِيَدِيَّ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّيْتُ مَرَّةً أُخْرَى إِلَى جَنْبِهِ، فَطَبَّقْتُ بِيَدِيَّ فَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتِيَّ قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِيَّ، وَقَالَ: يَا بُنِيَّ إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، فَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَزَادَ: إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ.(ا) حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد رضی اللہ عنہ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ دیا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر چٹکی ماری۔ مصعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ پھر ان کے پہلو میں نماز پڑھی تو اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ انہوں نے پھر میرے ہاتھ پر چٹکی لگائی اور فرمایا: ”میرے پیارے بیٹے! بیشک ہم بھی پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔“
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو قتیبہ وغیرہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”ہمیں اس سے منع کر دیا گیا تھا اور ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔“