السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السنة في وضع الراحتين على الركبتين ونسخ التطبيق باب: ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے کی سنت اور تطبیق کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2543
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفِّيَّ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذِيَّ فَنَهَانِي أَبِي عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.حافظ ثناء اللہ
ابویعفور رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے مصعب بن سعد رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے والد کے پاس نماز ادا کی تو میں نے اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ دیا۔ میرے والد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا اور فرمایا: ”ہم بھی پہلے اس طرح کرتے تھے، بعد میں ہمیں روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔“