حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ ⦗١٠٦⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ عَلَيْنَا قَالَ: فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ وَلَا يَنْصُبُ رَأْسَهُ وَلَا يَقْنَعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ، ثُمَّ يَرْفَعُ فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَثْنِي رِجْلَهُ فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا حَتَّى يَرْجِعَ أَوْ يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ مَوْضِعَهُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ، أَوْ كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ " فَقَالُوا جَمِيعًا: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ السَّمْعِيُّ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَصْحَابِهِ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں، جن میں سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے طریقے کو جانتا ہوں۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: ”یہ کیسے؟ تم نہ تو ہم سے زیادہ آپ ﷺ کی اتباع کرنے والے تھے اور نہ ہی صحابیت کے شرف میں ہم سے پرانے ہو۔“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، یہ بات تو درست ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”تو پھر آپ ﷺ کی نماز کا طریقہ ہمارے سامنے پیش کرو۔“ اس پر انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر اعتدال کے ساتھ ٹھہر جاتا، پھر آپ ﷺ قرأت فرماتے، پھر تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے، پھر کمر سیدھی کر لیتے، اس حال میں کہ رکوع کے دوران نہ تو اپنا سر اوپر کی طرف اکڑا کر رکھتے اور نہ ہی بالکل نیچے لٹکا دیتے، پھر اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر آپ ﷺ «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر زمین کی طرف سجدے کے لیے جھکتے اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اس پر بیٹھ جاتے اور سجدہ کرتے وقت اپنے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھتے، پھر دوبارہ سجدے میں جاتے، پھر سر اٹھاتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے، پھر اپنے پاؤں کو موڑتے اور اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر اعتدال کے ساتھ لوٹ آتی، پھر آپ ﷺ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا، پھر آپ ﷺ اپنی باقی نماز میں بھی اسی طرح کرتے، یہاں تک کہ جب وہ آخری رکعت آتی جس کے آخر میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ ﷺ اپنے بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے سے نکال لیتے اور اپنی بائیں جانب کولہے کے بل (تورک کی حالت میں) بیٹھ جاتے۔“ یہ سن کر ان سب صحابہ نے بیک زبان کہا: ”تم نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ بالکل اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔“ (اس حدیث کو اسی مفہوم کے ساتھ ہشیم بن بشیر، ابو اسامہ، عبدالملک بن صباح سمعی اور دیگر محدثین نے عبدالحمید بن جعفر سے روایت کیا ہے، نیز اسے ایک دوسری سند سے بھی ابو حمید اور ان کے ساتھیوں سے بیان کیا گیا ہے)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2517
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»