السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التكبير للركوع وغيره باب: رکوع اور دیگر ارکان کے لیے تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2500
مِمَّا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ " وَفِي حَدِيثِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ " لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ " فَقَدْ يَكُونُ كَبَّرَ وَلَمْ يَسْمَعْ، وَقَدْ يَكُونُ تَرَكَ مَرَّةً لِيُبَيِّنَ الْجَوَازَ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تکبیر مکمل نہیں کہتے تھے۔
(ب) عمرو کی حدیث میں سیدنا ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ تکبیر مکمل نہیں کہا کرتے تھے۔
(ج) یہاں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی ہو اور انہوں نے نہ سنی ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے جوازی طور پر اس کو ایک آدھ بار چھوڑ بھی دیا ہو۔