السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب قراءة السورة بعد الفاتحة في الأخريين باب: جس نے آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ " إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ يَقْرَأُ فِي الْأَرْبَعِ ⦗٩٤⦘ جَمِيعًا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ، وَكَانَ أَحْيَانًا يَقْرَأُ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ فِي صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ، وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ كَذَلِكَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ الْمَغْرِبَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعات میں قراءت کرتے، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت بھی ملاتے اور کبھی کبھار فرض نماز کی ایک ایک رکعت میں دو دو اور تین سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب کی دو رکعتوں میں بھی سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔