السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب قراءة السورة بعد الفاتحة في الأخريين باب: جس نے آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيّ، أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الْمَغْرِبَ، فَقَرَأَ أَبُو بَكْرٍ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَةٍ سُورَةٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ: " فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنَّ ثِيَابِي لَتَكَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِيَابَهُ، فَسَمِعْتُهُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨] زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَعَلَى غَيْرِ هَذَا حَتَّى سَمِعْتُ بِهَذَا فَأَخَذْتُ بِهِ.قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ آئے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں میں سے ایک ایک سورہ کی قرأت کی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں ان کے قریب ہو گیا حتیٰ کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مس ہوا چاہتے تھے۔ میں نے سنا، انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور یہ آیت پڑھی: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ روایت سنی تو فرمایا: ”سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔“