السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب قراءة السورة بعد الفاتحة في الأخريين باب: جس نے آخری دو رکعتوں میں بھی سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " كُنَّا نُحْرِزُ قِيَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفٍ مِنْ ذَلِكَ، وَحَرَزْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ⦗٩٣⦘ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ: عَلَى قَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.(ا) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے قیام سے اندازہ لگایا کرتے تھے کہ آپ نے دونوں رکعتوں میں کتنی قراءت کی، ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورہ السجدہ کی تلاوت کی جا سکے اور آخری دو رکعتوں میں آپ کا قیام پہلی دو کے نصف کے برابر تھا۔ پھر ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو یہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کی قراءت کے برابر تھا اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر تھا۔
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے: تیس آیات کی قراءت کے برابر۔