السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقتصر في الأخريين على فاتحة الكتاب باب: جس نے کہا کہ آخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ الفاتحہ پر اکتفا کیا جائے گا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2476
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مِسْعَرٌ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: " يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، يَعْنِي الْأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا فَوْقَ ذَاكَ، أَوْ قَالَ: مَا أَكْثَرُ مِنْ ذَاكَ " وَرُوِّينَا مَا دَلَّ عَلَى هَذَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کی قراءت بھی کی جائے اور کوئی دوسری سورت بھی اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کی قراءت کی جائے گی۔ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی“ البتہ مزید بھی پڑھ سکتے ہیں۔