السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 239
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا بُدَّ مِنْهُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ عِصَامٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ، وَوَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے۔“
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی ﷺ سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔