السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَطْلُبَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدًا، فَلَمْ يَلْبَثَا أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ أَطْعَمَكُمَا أَحَدٌ؟ ". فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ: " أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ".سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کو تلاش کر رہے تھے لیکن انہوں نے آپ ﷺ کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ باوقار انداز میں چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔“