السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التعوذ بعد الافتتاح باب: دعائے استفتاح کے بعد تعوذ (أعوذ بالله پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2358
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ يَقْرَأُ مَا بَدَا لَهُ مِنَ الْقُرْآنِ ".حافظ ثناء اللہ
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «اللَّهُ أَكْبَرُ»، پھر کہتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور میں تیری تعریف کے ساتھ تجھے یاد کرتا ہوں اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
پھر شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتے، پھر سورہ فاتحہ کی قراءت کرتے جس سے قرآن کی ابتدا ہوتی ہے۔