السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: التعوذ بعد الافتتاح باب: دعائے استفتاح کے بعد تعوذ (أعوذ بالله پڑھنے) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " وَزَادَ قَالَ عُمَرُ: وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ يُقَالُ لَهُ عَاصِمٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، وَزَادَ التَّفْسِيرَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى عَمْرٍو، وَلَكِنْ قَالَ: قِيلَ: وَمَا هَمْزُهُ؟ قَالَ: الْمُوتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ قِيلَ: وَمَا نَفْخُهُ؟ قَالَ: الْكِبْرُ، قِيلَ: وَمَا نَفْثُهُ؟ قَالَ: الشِّعْرُ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرٌ وَشُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ.(ا) ایک دوسری سند میں ابو ولید شعبہ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے۔“
(ب) انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمرو کہتے ہیں: نفخہ سے مراد تکبر ہے، ہمزہ سے مراد دیوانگی ہے اور نفثہ سے مراد شعر گوئی ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے ابوداؤد کی حدیث بھی اسی طرح ہے، اس میں حدیث کے ساتھ کچھ تشریح کا اضافہ بھی ہے مگر انہوں نے اس کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا، بلکہ کہا کہ ان سے کسی نے پوچھا: ہمزہ سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ غشی اور دیوانگی جو ابن آدم پر طاری ہو جاتی ہے۔ کسی نے پوچھا: نفخہ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تکبر۔ پھر کسی نے پوچھا: نَفْثُہُ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: شعر و شاعری۔