السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وضع اليد اليمنى على اليسرى في الصلاة باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا بِثَلَاثٍ، بِتَعْجِيلِ الْفِطْرِ، وَتَأْخِيرِ السَّحُورِ، وَوَضْعِ الْيَدِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ بِطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الصَّحِيحَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: ثَلَاثٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، فَذَكَرَهُنَّ مِنْ قَوْلِهَا.(ا) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم انبیاء کی جماعت کو تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے: 1۔ افطار میں جلدی کرنا۔ 2۔ سحری میں دیر کرنا۔ 3۔ نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تین چیزیں نبوت میں سے ہیں، پھر انہوں نے انہی چیزوں کو ذکر کیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عبدالمجید منفرد ہیں، یہ صرف طلحہ بن عمرو کے واسطے سے پہچانی جاتی ہے جو قوی نہیں ہیں، وہ عطاء سے، وہ ابن عباس سے اور ایک مرتبہ ابوہریرہ سے، وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ محمد بن ابان انصاری کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا قول ہے۔