السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وضع اليد اليمنى على اليسرى في الصلاة باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2325
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ " قَامَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ مِنَ السَّاعِدِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دل میں سوچا کہ میں ضرور رسول اللہ ﷺ پر نظر رکھوں گا کہ آپ ﷺ نماز کیسے ادا فرماتے ہیں، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں تک اٹھایا، پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھا اور کلائی سے پکڑا۔