السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وضع اليد اليمنى على اليسرى في الصلاة باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2323
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ " رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ " قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: وَصَفَ هَمَّامٌ " حِيَالَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، وَرَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَفَّانَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالجبار کے والد وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے۔
ابو عثمان کہتے ہیں: ہمام نے اس کی حالت یہ بیان کی کہ کانوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر اپنے کپڑے میں چھپا لیتے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے اور جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالتے اور ان کو بلند کرتے پھر تکبیر کہتے۔ جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے، تب بھی اپنے ہاتھ اٹھاتے اور جب سجدہ فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرتے۔