السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الجمع بين المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 232
أَخْبَرَنَا أَبُو الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ هَذَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد خیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور وہ نماز پڑھ چکے تھے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا... اس میں ہے کہ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑا جس سے پانی لیا تھا۔
پھر طویل حدیث ذکر کی۔ اس کے آخر میں ہے: جس شخص کو اچھا لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ جانے تو یہ وہی (طریقہ) ہے۔