السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: متى يقوم المأموم باب: مقتدی کب کھڑا ہو، اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ قَالَ: " قُمْنَا بِمِنًى إِلَى الصَّلَاةِ وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: هَذَا السُّمُودُ، فَقَالَ لِيَ الشَّيْخُ، حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصَّلَاةِ صُفُوفًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ قَالَ: وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَى اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا، يَصِلُ بِهَا صَفًّا " وَالَّذِي رُوِيَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ، رُوِيَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَقَالَ: مَا لِيَ أَرَاكُمْ سَامِدِينَ، يَعْنِي قِيَامًا، وَسُئِلَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ يَنْتَظِرُونَ الْإِمَامَ قِيَامًا أَوْ قُعُودًا؟ قَالَ: " لَا بَلْ قُعُودًا وَالْأَشْبَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُقِيمُونَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَبْلَ خُرُوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأْخُذُونَ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ بِأَنْ لَا يَقُومُوا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ خَرَجَ تَخْفِيفًا عَلَيْهِمْ ".(ا) عون بن کہمس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے تھے، لیکن امام ابھی تک نہیں آیا تھا۔ چنانچہ ہم میں سے بعض بیٹھ گئے۔ اہل کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تجھے کس نے بٹھایا ہے؟ میں نے کہا: ابن بریدہ نے۔ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھے اس کے بارے میں عبدالرحمن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں نماز کے لیے آپ ﷺ کے تکبیر کہنے سے پہلے لمبی صف بنا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے ان لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو پہلی صف کو ملاتے ہیں اور اللہ جل شانہ کے نزدیک ان قدموں سے بہترین کوئی قدم نہیں جن کے ساتھ وہ چل کر آتا ہے اور صف کو ملاتا ہے۔“
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ ابو خالد والبی سے منقول ہے کہ ایک دن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھانے نکلے تو ہم کھڑے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہو گیا ہے کہ میں تمہیں مبہوت حالت میں کھڑے دیکھ رہا ہوں۔
(ج) حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ امام کا انتظار کھڑے ہو کر کریں یا بیٹھ کر؟ تو انہوں نے فرمایا: بیٹھ کر انتظار کریں۔
اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، نبی ﷺ کے نکلنے سے پہلے کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ ﷺ کے اپنی جگہ پر کھڑے ہونے سے پہلے اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کریں جب تک مجھے نہ دیکھ لیں۔“ آپ ﷺ نے ان پر تخفیف کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا۔