السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: سنة التكرار في المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں تکرار (تین بار کرنے) کی سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِالْمَيْضَاةِ، فَأَكْفَأَهَا عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي آخِرِهِ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو عَلْقَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، وَثَبَتَ ذَلِكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِّينَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جب ان سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، پھر ایک چھوٹا برتن لایا گیا، آپ نے اس کو اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اس کو پانی میں داخل کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا۔۔۔ حدیث کے آخر میں ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابو علقمہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح نقل کیا ہے: اسی طرح یہ روایت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ بھی ثابت ہے۔