السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: سنة التكرار في المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں تکرار (تین بار کرنے) کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 224
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا يَوْمًا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ⦗٨٢⦘ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَتَوَضَّأُ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الظَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يَذْكُرَا التَّكْرَارَ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ. وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَبَحْرِ بْنِ نَصْرٍ هَكَذَا، وَهُمَا ثِقَتَانِ. وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِيَ التَّكْرَارُ فِيهِمَا عَنْ عُثْمَانَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دن وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا۔
(ب) ایک حدیث کے آخر میں ہے کہ ”ایک دن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے میری طرح وضو کیا۔“ (ج) صحیح مسلم میں ابوطاہر اور حرملہ، ابن وہب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں تکرار کا ذکر نہیں کیا۔ (د) حدیث میں ابن عبدالحکم اور بحر بن نصر رحمہما اللہ ثقہ راوی ہیں۔