السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: استبانة الخطأ بعد الاجتهاد باب: اجتہاد کے بعد (قبلہ کے تعین میں) غلطی واضح ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشِيرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ، أَوْ عَلَى غَيْرِ قِبْلَةٍ أَعَادَ الصَّلَاةَ، كَانَ فِي الْوَقْتِ أَوْ غَيْرِ الْوَقْتِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ خَطَاؤُهُ الْقِبْلَةَ تَحَرُّفًا أَوْ شَيْئًا يَسِيرًا " ⦗٢١⦘ وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ: لَا يُعِيدُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) عبدالرحمن بن ابوزناد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ فقہاء مدینہ کا یہ قول ہے کہ جو شخص بے وضو یا غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے تو اس کو نماز لوٹانی ہوگی، چاہے وقت کے اندر ہو یا وقت گزر چکا ہو۔ البتہ اگر اس کے پاؤں قبلے سے منحرف ہوں یا وہ خود تھوڑا سا منحرف ہو تو گنجائش ہے۔
(ب) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کرے کہ وہ نماز نہ لوٹائے۔