حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ، وَعُمَرُ بْنُ قَيْسٍ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أُظْلِمَتْ مَرَّةً وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ، وَاشْتَبَهَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حِيَالَهُ، فَلَمَّا انْجَلَتْ إِذَا بَعْضُنَا صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، وَبَعْضُنَا قَدْ صَلَّى لِلْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " " مَضَتْ صَلَاتُكُمْ " " وَنَزَلَتْ {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ} [البقرة: ١١٥] " ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیع رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے اوپر اندھیرا چھا گیا (رات ہوگئی) اور ہم سفر میں تھے۔ اس دوران ہم پر قبلہ مشتبہ ہوگیا۔ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نماز ادا کی۔ جب موسم صاف ہوا تو معلوم ہوا کہ ہم میں سے بعض لوگوں نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے۔ ہم نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری نماز ہوگئی ہے۔“ اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 115] ”جدھر بھی منہ کر لو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2241
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الطيالسي في سنده 1145»