السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تسمع دلالة مشرك لمن كان أعمى أو غير بصير بالقبلة باب: نابینا یا قبلہ سے ناواقف شخص کے لیے مشرک کی رہنمائی کا معتبر نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2238
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب سے (دین کی) کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو، کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کرسکیں گے اس لیے کہ وہ خود گمراہ ہیں۔“