حدیث نمبر: 2237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَمْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُ أَعْلَمُ " فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَكَلَّمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ، وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ " ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ هُوَ: نَمْلَةُ بْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی نملہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس موجود تھا، اتنے میں ایک یہودی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد ﷺ! کیا یہ جنازہ کلام کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میت بات کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب جو بات تمہیں بیان کریں نہ اس کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب کرو، (صرف اتنا کہو) «آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ» ”ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔“ اگر ان کی بات صحیح (حق) ہو تو ان کی تکذیب نہ کرو اور اگر ان کی بات غلط ہو تو ان کی تصدیق مت کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2237
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ (بدون القصر) اخرجه ابوداود 3644»