السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : عجز المكاتب. باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيِّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: شَرَفٌ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ، حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ: مَجْنُونٌ أَنْتَ؟ أَنْتَ هَاهُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِي الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ يُعْتِقُهُمْ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: قَدْ عَجِزْتُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ، ⦗٥٧٣⦘ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَجِزْتُ، وَهَذِهِ صَحِيفَتِي فَامْحُهَا، فَقَالَ: " لَا، وَلَكِنْ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ "، فَمَحَاهَا، فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: " اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ "، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى ابْنِيَّ، قَالَ: " هُمَا حُرَّانِ "، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى أُمَّيْ وَوَلَدِيَّ، قَالَ: " هُمَا حُرَّتَانِ "، فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِي مَقْعَدٍ..عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام سے چالیس ہزار میں مکاتبت کی، اس کا نام شرف تھا، وہ کوفہ گیا اور وہاں گدھوں پر کام کرنے لگا، تو اس نے پندرہ ہزار کما کر دے دیے، پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا تم پاگل ہو؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو غلام خرید کر آزاد کرتے ہیں اور تم نے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے، ان کے پاس جاؤ اور جا کر کہو کہ میں عاجز آ گیا ہوں، وہ اپنے ساتھ تحریر بھی لے کر آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں عاجز آ گیا ہوں، یہ تحریر ہے، اسے ختم کر دیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اگر تم چاہو تو اسے مٹا دو، میں اسے نہیں مٹاؤں گا، چنانچہ اس نے اسے مٹا دیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں اور فرمانے لگے: جاؤ، تم آزاد ہو، اس نے کہا: اللہ آپ کو بھلائی دے، میرے بیٹوں پر بھی احسان فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں بھی آزاد ہیں، اس نے کہا: میرے بچوں کی والدہ کو بھی (آزاد کر دیں)، تو آپ نے فرمایا: وہ بھی آزاد ہے، چنانچہ آپ نے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔