حدیث نمبر: 21757
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ كَاتَبَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَعَجِزَ، فَرَدَّهُ فِي الرِّقِّ وَقَدْ أَدَّى النِّصْفَ أَوْ قَرِيبًا مِنَ النِّصْفِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَهُ، وَكَانُوا وُلِدُوا مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْتَقَ وَلَدَهُ، وَرَدَّ إِلَيْهِ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ..
حافظ ثناء اللہ

اسحاق جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ۳۰ ہزار میں مکاتبت کر لی۔ وہ عاجز آ گیا تو اس کو غلامی میں لوٹا دیا۔ اس نے نصف یا تقریباً نصف ادا کر دی تھی۔ اس نے مطالبہ کر دیا کہ میرے بچوں کو آزاد کر دیں جو ان کی مکاتبت کے درمیان پیدا ہوئے، اس کو اور اس کے بچوں کو بھی آزاد کر دیا اور ۱۵۰۰ درہم بھی واپس کر دیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21757
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»