السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : عجز المكاتب. باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ وَوَلَدَهُ وَأُمَّ وَلَدِهِ، وَأَنَّهُ أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي قَدْ عَجِزْتُ، فَاقْبَلْ كِتَابَتِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِمْ "، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمْ فَرَدَّهُمْ فِي الرِّقِّ، فَلَّمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِمَّا بِيَوْمٍ وَإِمَّا بِثَلَاثَةٍ أَعْتَقَهُمْ..حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ اس کا بچہ اور ام ولد بھی موجود تھی۔ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں عاجز آ چکا، اپنی کتابت واپس لے لو۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھ سے قبول نہ کروں گا جب تک تو ان کو لے کر نہ آئے گا۔ جب وہ ان کو لے کر آیا، تو انہوں نے ان کو غلامی میں واپس کر دیا۔ اس کے ایک یا تین دن کے بعد ان کو آزاد کر دیا۔