السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ولد المكاتب من جاريته، وولد المكاتبة من زوجها. باب: مکاتب کے اپنی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے اور مکاتبہ کے اپنے شوہر سے پیدا ہونے والے بچے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21706
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " فَإِنْ كَانَ السَّيِّدُ قَدْ سَأَلَهُ مَالَهُ فَكَتَمَهُ؟ "، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " فَكَتَمَهُ وَلَدًا لَهُ مِنْ أَمَةٍ لَهُ، أَوْ لَمْ يَسْأَلْهُ "، قَالَ: هُوَ لِسَيِّدِهِ ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قُلْتُ لَهُ: " أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ قَدْ عَلِمَ بِوَلَدِ الْعَبْدِ، فَلَمْ يَذْكُرْهُ السَّيِّدُ وَلَا الْعَبْدُ عِنْدَ الْكِتَابَةِ "؟ قَالَ: فَلَيْسَ فِي كِتَابَتِهِ، هُوَ مَالُ سَيِّدِهِمَا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: اگر مالک نے غلام سے مال کا سوال کیا اور اس نے چھپا لیا تو فرمایا: وہ مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا: اگر اس نے لونڈی کا بچہ چھپا لیا یا اس کے بارے میں سوال نہ ہوا تو فرمایا: وہ بھی مالک کا ہے۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر مالک کو غلام کے بچے کا علم ہو لیکن کتابت کے وقت اس کا تذکرہ نہیں ہوا، فرماتے ہیں: یہ بھی مالک کا مال ہے۔