السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ولد المكاتب من جاريته، وولد المكاتبة من زوجها. باب: مکاتب کے اپنی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے اور مکاتبہ کے اپنے شوہر سے پیدا ہونے والے بچے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21702
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " الْمُكَاتَبُ لَا يَشْتَرِطُ أَنَّ مَا وَلَدَتْ مِنْ وَلَدٍ فَإِنَّهُ فِي كِتَابَتِي ثُمَّ يُولَدُ؟ "، قَالَ: هُمْ فِي كِتَابَتِهِ ". وَقَالَ ذَلِكَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ مکاتب یہ شرط نہیں رکھتا کہ جو اولاد پیدا ہو گی وہ میری کتابت میں ہو گی، پھر اولاد پیدا ہو جائے (تو کیا حکم ہے)؟ فرمایا: وہ اس کی کتابت میں شامل ہیں۔ عمرو بن دینار نے بھی یہی کہا۔