السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا سَبْلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ يَذْكُرُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرِي عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: فَكَاتَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَوَقَفْتُ بِالْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ اسْتِئْذَانًا لَمْ أَكُنْ أَسْتَأْذِنُهُ، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ وَقَالَتْ: " يَا بُنِيَّ، مَا لَكَ لَا تَدْخُلُ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كَاتَبْتُ، قَالَتْ: " فَادْخُلْ عَلَيَّ مَا كَانَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ، فَإِنَّكَ لَا تَزَالُ مَمْلُوكًا مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ دِرْهَمٌ "..سعید بن مسلم مدنی فرماتے ہیں کہ میں نے نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم سبلان سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ وہ حج اور عمرہ کے سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سواری کرایہ پر دیا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ میں نے مکاتبت کر لی، پھر میں دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اس طرح اجازت طلب کی جس طرح پہلے نہیں کیا کرتا تھا، تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہنے لگیں: اے بیٹے! تم داخل کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے مکاتبت کر لی ہے، فرمانے لگیں: آپ گھر میں آیا کریں، جب تک آپ کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، آپ غلام ہی رہیں گے جب تک آپ کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔