السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21646
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا سَبْلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ يَذْكُرُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرِي عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: فَكَاتَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَوَقَفْتُ بِالْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ اسْتِئْذَانًا لَمْ أَكُنْ أَسْتَأْذِنُهُ، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ وَقَالَتْ: " يَا بُنِيَّ، مَا لَكَ لَا تَدْخُلُ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كَاتَبْتُ، قَالَتْ: " فَادْخُلْ عَلَيَّ مَا كَانَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ، فَإِنَّكَ لَا تَزَالُ مَمْلُوكًا مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ دِرْهَمٌ "..حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسلم مدنی فرماتے ہیں کہ میں نے سالم سبلان غلام سے سنا، فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ام المومنین کا حج اور عمرہ کے سفر میں توشہ کم پڑ گیا، کہتے ہیں کہ میں نے مکاتبت کر لی، پھر میں دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، میں نے اجازت طلب کی تو انہوں نے انکار کیا اور کہنے لگیں: اے بیٹے! تم داخل کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے مکاتبت کر لی ہے، فرمانے لگیں: آپ گھر میں آیا کریں، جب تک آپ کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، آپ غلام ہی رہیں گے جب تک آپ کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔