السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: " مَنْ هَذَا؟ "، فَقُلْتُ: سُلَيْمَانُ، قَالَتْ: " كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: عَشْرُ أَوَاقٍ، قَالَتْ: " ادْخُلْ، فَإِنَّكَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: سلیمان۔ پوچھا: تیری مکاتبت کی کتنی رقم باقی ہے؟ میں نے کہا: ١٠ اوقیے۔ فرمایا: آجاؤ۔ آپ غلام ہی ہیں، جب تک آپ کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔