السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ "، فَقَالَ لَهُ - يَعْنِي: الشَّعْبِيَّ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقْضِي فِيهَا أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى مَوَالِيهِ - يَعْنِي: إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، وَمَا بَقِيَ فَلِوَرَثَتِهِ، فَقَالَ: شُرَيْحٌ يَقْضِي فِيهَا بِقَضَاءِ عَبْدِ اللهِ..حافظ ثناء اللہ
شعبی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی رہے گا جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہو۔ شعبی نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قاضی شریح فیصلہ فرماتے تھے کہ جب مکاتب فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ مکاتبت باقی ہو اور کچھ وراثت بھی باقی ہو تو قاضی شریح، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والا فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔