السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21642
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ زَيْدٌ يَقُولُ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ "..حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ مکاتبت غلام کے بارے میں فرماتے تھے کہ جب تک اس کی مکاتبت سے کوئی چیز باقی ہے وہ غلام ہی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان شرط جائز ہے۔