السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر. باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
حدیث نمبر: 21627
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِمَنْ أَنْتَ "؟ قُلْتُ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلَتْنِي فِي حَائِطٍ لَهَا، قَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ "، قَالَ: لَبَّيْكَ، قَالَ: " اشْتَرِهِ "، قَالَ: فَاشْتَرَانِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَعْتَقَنِي. . وَهَذَا يُخَالِفُ الرِّوَايَاتِ قَبْلَهُ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ عَتَاقُهُ لَمْ يَحْصُلْ بِأَنْ لَمْ يَعْلُقْ مِنَ الْفَسِيلَاتِ وَاحِدَةٌ حَتَّى أَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرْسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا ⦗٥٤٣⦘ فَاشْتَرَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَأَعْتَقَهُ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ، وَاللهُ أَعْلمُ، وَفِي ثُبُوتِ بَعْضِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ نَظَرٌ..حافظ ثناء اللہ
زید بن صوحان حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے اسلام کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”تو کس کا غلام ہے؟“ میں نے کہا: ”انصاری عورت کا جس نے اپنے باغ میں میری ڈیوٹی لگائی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر رضی اللہ عنہ!“ عرض کیا: ”اللہ کے رسول! حاضر۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو خریدو۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے خرید کر آزاد کر دیا۔
نوٹ: یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی ﷺ نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا، تو اس عرصے کے درمیان ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو خریدا ہو۔