السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر. باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ سَبَبِ إِسْلَامِهِ وَفِيهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَاتِبْ يَا سَلْمَانُ "، فَكَاتَبْتُ صَاحِبِي عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ نَخْلَةٍ أُحْيِيهَا، وَأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَأَعَانَنِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ ثَلَاثِينَ وَدِيَّةً، وَعِشْرِينَ وَدِيَّةً وَعَشْرًا، كَلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى قَدْرِ مَا عِنْدَهُ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْحَفْرِ، قَالَ: وَخَرَجَ مَعِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَكُنَّا نَحْمِلُ إِلَيْهِ الْوَدِيَّ وَيَضَعُهُ بِيَدِهِ وَيُسَوِّي عَلَيْهَا، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا مَاتَتْ مِنْهَا وَدِيَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَبَقِيَتْ عَلَيَّ الدَّرَاهِمُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنَ الذَّهَبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ الْفَارِسِيُّ الْمُسْلِمُ الْمُكَاتَبُ "؟ فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ: " خُذْ هَذِهِ يَا سَلْمَانُ فَأَدِّ مَا عَلَيْكَ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ هَذِهِ مِمَّا عَلَيَّ؟ قَالَ: " فَإِنَّ اللهَ سَيؤَدِّي بِهَا عَنْكَ "، فَوَالَّذِي نَفْسُ سَلْمَانَ بِيَدِهِ لَوَزَنْتُ لَهُمْ مِنْهَا أَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِمْ، وَعَتَقَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى زِيَادَةٌ فِي عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ، وَفِيهَا اشْتِرَاطُ الْحُرِّيَةِ، وَإِنْ وَاحِدَةٌ مِنْهَا لَمْ تَعْلَقْ، وَهِيَ مَا لَمْ يَغْرِسْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّالِثَةِ نُقْصَانٌ عَنْ عَدَدِ الْفَسِيلَاتِ وَزِيَادَةُ الْأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، وَفِي كِلْتَيْهِمَا مَعَ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بِشَرْطِ الْعُلُوقِ أَوِ الْإِطْعَامِ، وَكَأَنَّ الْعَقْدَ كَانَ مَعَ الْكُفَّارِ وَكَأَنَّ الْقَصْدَ مِنْهُ حُصُولُ الْعِتَاقِ، فَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اشْتِرَاطِهِ بِقَوْلِهِ: " اشْتَرِطْ لَهُمْ "، لِكَوْنِهِ شَرْطًا صَحِيحًا فِي حُصُولِ الْعِتَاقِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ عَقْدُ الْكِتَابَةِ يُفْسَدُ بِهِ..عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے سلمان! مکاتبت کرلو۔“ میں نے اپنے مالکوں سے تین سو کھجوروں کے درختوں کو آباد کرنے اور چالیس اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کر لی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے ۳۰، کسی نے ۲۰، کسی نے ۱۰ اپنی طاقت کے مطابق مجھے عطا کیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ میرے ساتھ نکلے اور ہم کھجور کے چھوٹے پودوں کو اٹھائے ہوئے تھے، آپ ﷺ پودے کو ہاتھ میں لیتے اور زمین میں برابر گاڑھ دیتے۔ اللہ کی قسم! ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ باقی میرے اوپر درہم رہ گئے تو ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فارسی مسلمان مکاتب کہاں ہے؟“ مجھے بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سلمان! لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا قرض کہاں سے ادا کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ممکن ہے کہ یہ تیرا قرض ادا کر دے۔“ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے، میں نے ان کو ۴۰ اوقیوں کا وزن کر کے دے دیا اور سلمان رضی اللہ عنہ آزاد ہو گئے۔
شیخ فرماتے ہیں: پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی ﷺ نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور ۴۰ اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔