السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر. باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَدِيَّةٍ عَلَى طَبَقٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ "؟ قَالَ: صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ، قَالَ: " إِنِّي لَا آكُلُ الصَّدَقَةَ "، فَرَفَعَهَا، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " مَا هَذَا "؟ قَالَ: هَدِيَّةٌ لَكَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوا "، قَالَ: " ⦗٥٤٢⦘ لِمَنْ أَنْتَ "؟، قَالَ: لِقَوْمٍ، قَالَ: " فَاطْلُبْ إِلَيْهِمْ أَنْ يُكَاتِبُوكَ "، قَالَ: فَكَاتَبُونِي عَلَى كَذَا وَكَذَا نَخْلَةً أَغْرِسُهَا لَهُمْ، وَيَقُومُ عَلَيْهَا سَلْمَانُ حَتَّى تُطْعِمَ، قَالَ: فَفَعَلُوا، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَرَسَ النَّخْلَ كُلَّهُ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُطْعِمَ نَخْلُهُ مِنْ سَنَتِهِ إِلَّا تِلْكَ النَّخْلَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ غَرَسَهَا "؟ قَالُوا: عُمَرُ، فَغَرَسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَدِهِ، فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا..سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ جب مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”سلمان! یہ کیا ہے؟“ کہنے لگے: ”آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے صدقہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں صدقہ نہیں کھاتا۔“ تو انہوں نے اسے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ تو کہنے لگے: ”یہ آپ ﷺ کے لیے تحفہ ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کون ہو؟“ کہنے لگے کہ میں ایک قوم کا غلام ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے مکاتبت طلب کر لو۔“ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے مکاتبت کر لی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان رضی اللہ عنہ ان کی حفاظت کرے۔ انہوں نے یہ کام کر لیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں، ایک کھجور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا سوائے اس کھجور کے، تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کس نے لگائی تھی؟“ تو انہوں نے عرض کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے، تو آپ ﷺ نے اسے بھی اپنے دستِ مبارک سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔