السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: لا يعتق المكاتب حتى يكون في الكتابة: فإذا أديت هذا، أو نصفه فأنت حر. باب: جس نے کہا: مکاتب اس وقت تک آزاد نہیں ہوتا جب تک کہ عقدِ کتابت میں یہ درج نہ ہو: ”جب تم یہ، یا اس کا آدھا حصہ ادا کر دو گے تو تم آزاد ہو“۔
حدیث نمبر: 21624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَمِائَةِ فَسِيلَةٍ، فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي "، فَآذَنْتُهُ، فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي، فَعَلِقْنَ جَمِيعًا، إِلَّا الْوَاحِدَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا، جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہو جاؤں گا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ ﷺ سے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔“ میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے ایک درخت کے علاوہ تمام درخت اپنے ہاتھ سے لگائے، تمام درختوں نے پھل دینا شروع کر دیا سوائے ایک کے۔