حدیث نمبر: 21623
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ ابْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، قَالَ: فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، فَقَطَّبَ، فَقَالَ: " نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ، عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، لَا وَاللهِ أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا "، قَالَ: فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَلَقِيَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا الَّذِي أَرَى بِكَ؟ قُلْتُ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بَعَثَنِي فِي تِجَارَةٍ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَحْمَدَ وِلَايَتِي، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَسْأَلُكَ الْكِتَابَةَ، قَالَ: فَقَطَّبَ، قَالَ: فَقَالَ: " نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُكَ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ تُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّكَ مِنْهَا دِرْهَمًا "، قال، فَقَالَ: انْطَلِقْ، قَالَ: فَرَدَّنِي إِلَيْهِ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فُلَانٌ كَاتَبْتَهُ؟ قَالَ: فَقَطَّبَ وَقَالَ: " نَعَمْ، وَلَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللهِ مَا فَعَلْتُ، أُكَاتِبُهُ عَلَى مِائَةِ أَلْفٍ عَلَى أَنْ يُعِدَّهَا لِي فِي عِدَتَيْنِ، وَاللهِ لَا أَغُضُّهُ مِنْهَا دِرْهَمًا، قَالَ: فَغَضِبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ: لِلَّهِ لَأَمْثُلَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّمَا أَطْلُبُ إِلَيْكَ حَاجَةً تَحُولُ دُونَهَا بِيَمِينٍ؟، قَالَ: فَضَرَبَ، لَا أَدْرِي قَالَ: كَتِفِيَّ، أَوْ قَالَ: عَضُدِيَّ، ثُمَّ قَالَ: كَاتِبْهُ، قَالَ فَكَاتَبْتُهُ فَانْطَلَقَ بِيَ الزُّبَيْرُ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَعْطَانِي مِائَةَ أَلْفٍ، ثُمَّ قَالَ: انْطَلِقْ فَاطْلُبْ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَأَدِّ إِلَى عُثْمَانَ مَالَهُ مِنْهَا، فَانْطَلَقْتُ فَطَلَبْتُ فِيهَا مِنْ فَضْلِ اللهِ، وَأَدَّيْتُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَإِلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَالَهُ، وَفَضَلَ فِي ⦗٥٤١⦘ يَدِيَّ ثَمَانُونَ أَلْفًا..
حافظ ثناء اللہ

مسلم بن ابی مریم ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا، میں واپس آیا تو انہوں نے میری تعریف کی۔ وہ کہتے ہیں: میں ایک دن عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے، اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے وہ دو مدتوں میں ادا کرتے، اللہ کی قسم! میں ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ وہ کہتا ہے کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلا تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے کہا: ”میں تجھے کیسے دیکھ رہا ہوں؟“ میں نے کہا کہ امیر المؤمنین نے مجھے تجارت کی غرض سے بھیجا ہے، میں واپس لوٹا تو انہوں نے میری بہت زیادہ تعریف کی، میں ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! میں مکاتبت کا سوال کرتا ہوں۔“ کہتے ہیں کہ انہوں نے مکاتبت کر لی اور فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ مجھے دو مدتوں میں ادا کرتے، اللہ کی قسم! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”چلو۔“ انہوں نے مجھے لا کر امیر المؤمنین کے سامنے کھڑا کر دیا اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ نے فلاں سے مکاتبت کی ہے؟“ کہتے ہیں: ”ہاں! اگر اللہ کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک لاکھ کے عوض بھی مکاتبت نہ کرتا کہ آپ وہ دو مدتوں میں ادا کرتے، اللہ کی قسم! میں اس سے ایک درہم بھی کم نہیں کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کے سامنے مثالیں بیان کروں گا اور آپ مجھے اپنی ضرورت بیان کریں جس کی وجہ سے آپ نے قسم اٹھائی۔“ فرماتے ہیں کہ انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ میں نہیں جانتا، پھر کہا کہ چلو آپ اس سے مکاتبت کر لیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے مکاتبت کر لی تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے گھر جا کر مجھے ایک لاکھ کی رقم ادا کر دی پھر کہا: ”جاؤ ان سے اللہ کا فضل تلاش کرو، اگر معاملہ غالب آ جائے تو عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ رقم ادا کر دینا۔“ کہتے ہیں کہ میں چلا اللہ کا فضل تلاش کرتا رہا تو میں نے عثمان اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ان کی رقم ادا کر دی اور میرے پاس اسی ہزار موجود تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21623
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»