السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: يجب على الرجل مكاتبة عبده قويا أمينا، ومن قال: لا يجبر عليها، لأن الآية محتملة أن تكون إرشادا، أو إباحة لا حتما باب: جس نے کہا: آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنے طاقتور اور امانت دار غلام کو مکاتب بنائے، اور جس نے کہا: اسے اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ آیت بطورِ رہنمائی یا اباحت (جواز) ہو نہ کہ بطورِ فرض (حتمی)۔
حدیث نمبر: 21617
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " لَيْسَتْ بِعَزْمَةٍ، إِنْ شَاءَ كَاتَبَ، وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُكَاتِبْ ". ⦗٥٣٩⦘ وَرُوِّينَا مِثْلَهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ..حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکاتبت کرنا ضروری نہیں ہے، اگر چاہے تو مکاتبت کر لے، اگر نہ چاہے تو نہ کرے۔