السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من قال: يجب على الرجل مكاتبة عبده قويا أمينا، ومن قال: لا يجبر عليها، لأن الآية محتملة أن تكون إرشادا، أو إباحة لا حتما باب: جس نے کہا: آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنے طاقتور اور امانت دار غلام کو مکاتب بنائے، اور جس نے کہا: اسے اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ آیت بطورِ رہنمائی یا اباحت (جواز) ہو نہ کہ بطورِ فرض (حتمی)۔
حدیث نمبر: 21616
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَوَاجِبٌ عَلَيَّ إِذَا عَلِمْتُ أَنَّ فِيهِ خَيْرًا أَنْ أُكَاتِبَهُ؟ قَالَ: " مَا أَرَاهُ إِلَّا وَاجِبًا ". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: تَأْثُرُهَا عَنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: لَا.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا مکاتبت کرنا میرے اوپر لازم ہے، اگر غلام کے پاس مال ہو؟ انہوں نے کہا: میں اسے واجب خیال کرتا ہوں۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ اسے کسی سے نقل کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔