السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
وَرَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِمِائَةٍ. . أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: قَوْلُ شَرِيكٍ: إِنَّ رَجُلًا مَاتَ، خَطَأٌ مِنْهُ، لِأَنَّ فِي حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ: وَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: " اقْضِ دَيْنَكَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ سَيِّدَ الْمُدَبَّرِ كَانَ حَيًّا يَوْمَ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " لَا يَشُكُّ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْحَدِيثِ فِي خَطَأِ شَرِيكٍ فِي هَذَا، وَإِنَّمَا وَقَعَ هَذَا الْخَطَأُ لَهُ وَلِغَيْرِهِ بِمَا ":.شریک بن عبداللہ نے سلمہ بن کہیل کے واسطے سے عطاء اور ابوزبیر سے، انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ایک آدمی فوت ہو گیا، اس نے مدبر غلام اور قرض چھوڑا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اسے اس کے قرض میں فروخت کر دیں، تو انہوں نے اسے 800 درہم میں فروخت کر دیا۔
ابوبکر نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شریک کی یہ بات کہ آدمی فوت ہو گیا تھا غلطی پر مبنی ہے، کیونکہ اعمش کی سلمہ بن کہیل سے روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کی طرف قیمت واپس کی اور فرمایا: ”اپنا قرض ادا کرو۔“ اسی طرح عمرو بن دینار اور ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ مدبر کا مالک اس کی فروخت کے دن زندہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محدثین کو اس بارے میں شریک کی غلطی میں کوئی شک نہیں، یہ غلطی انہیں اور دوسروں کو اس روایت کی وجہ سے لگی جو آگے آ رہی ہے۔