السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ مَمْلُوكَهُ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فَمَاتَ، فَدَعَا بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبَاعَهُ مِنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ. . رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ. وَقَوْلُهُ: إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فَمَاتَ، مِنْ شَرْطِ الْعِتْقِ وَلَيْسَ بِإِخْبَارٍ عَنْ مَوْتِ الْمُعْتِقِ، وَمِنْ هُنَا وَقَعَ الْغَلَطُ لِبَعْضِ الرُّوَاةِ فِي ذِكْرِ وَفَاةِ الرَّجُلِ فِيهِ عِنْدَ الْبَيْعِ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ وَفَاتَهُ فِي شَرْطِ الْعِتْقِ يَوْمَ التَّدْبِيرِ، وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَيْهِ رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ..عطاء بن ابی رباح، ابوزبیر اور عمرو بن دینار رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے اپنا غلام اس شرط پر آزاد کیا کہ اگر اسے کوئی حادثہ پیش آ جائے اور وہ فوت ہو جائے (تو غلام آزاد ہے)، تو نبی ﷺ نے غلام کو بلوایا اور اسے بنو عدی بن کعب کے ایک شخص نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔
ان کے الفاظ «إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فَمَاتَ» آزادی کی شرط کا حصہ ہیں، آزاد کرنے والے کی موت کی خبر نہیں ہیں، اور یہیں سے بعض راویوں کو غلطی لگی کہ انہوں نے فروخت کے وقت اس آدمی کی وفات کا ذکر کر دیا، حالانکہ اس کی وفات کا ذکر صرف مدبر بنانے کے دن آزادی کی شرط میں تھا، اور جمہور کی روایت اسی پر دلالت کرتی ہے۔