السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما جاء في جر الولاء. باب: جرِ ولاء (ولاء کے منتقل ہونے) کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21527
وَبِإِسْنَادِهِ أنبأ يَزِيدُ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ امْرَأَةً حُرَّةً كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْعَبْدُ، فَقَضَى شُرَيْحٌ بِجَرِّ الْوَلَاءِ..حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو اور اس کی اولاد بھی ہو، پھر اس غلام کو آزاد کر دیا گیا تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے ولاء کے منتقل ہونے کا فیصلہ سنا دیا۔